32

کتاب کا عالمی دن

کتاب کا عالمی دن

تحریر : شیر افضل ملک

کتاب کی قدر و منزلت اور اہمیت و افادیت کبھی بھی کم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں علوم کے ذخائر ہیں اور علوم کے متلاشی ہمیشہ ان ذخائر کی تلاش میں محو جستجو رہتے ہیں۔ کتاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ کتاب کو کبھی مٹی کی تختیوں،پیپرس کے رول،ہڈیاں چمڑے یا جھلی کاغذ اور آ خر میں الیکڑانک فارمیٹ ای بکس میں لکھا گیا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب کی اہمیت اس وقت بھی کم نہ تھی جب کاغذ موجود نہ تھا۔ لہذا دور حاضر میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت کتاب کی چھپائی صرف کاغذ پر منحصر نہیں رہی بلکہ اب کتاب کو ایک بک کرئیٹر انٹرنیٹ اور بک ریڈر کے ذریعے ڈیجیٹل فارمیٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے علم کے ان خزانوں تک رسائی آسان سے آسان تر بنا دی ہے اور کتب کو گلوبل ویلیج سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ای بکس کا سمندر پیش کردیا ہے جس کی بدولت پیاسے کماحقہ سیراب ہوسکتے ہیں ۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ جب کوئی شخص 10 کتابیں پڑھ لیتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ 10ہزار میل کا سفر طے کر لیتا ہے۔ائونس گیلیوس کہتے ہیں کتابیں خاموش استاد ہیں۔ فرانس کافکا کہتے ہیں کہ ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم روح کے بغیر۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص دو دن تک کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرتا تو تیسرے دن اسکی گفتگو میں وہ لذت اور شیرینی باقی یعنی اس کا انداز تکلم تبدیل ہو جاتا ہے۔

مقصد یہ کہ کتاب کے مطالعہ سے ہمیں ٹھوس دلائل سے بات کرنے کا سلیقہ و طریقہ آ جاتاہے۔ دُنیا کے تقریباََ 100سے زائد ممالک میں 23اپریل کو کتاب کا عالمی دن اور حقوق ملکیت دانش کا دن منایا جاتا ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ دن 4مارچ کو منایا جاتا ہے ۔کتابوں کے عالمی دن کا آغاز سپین میں1616ءمیںہوا۔سپین کے شمال مشرق کے علاقہ کیٹو لینیا ہے اور اس کا دارالحکومت بارسلوناداستانی شہر ہے اس میں ہر سال 23اپریل سے 25اپریل تک لوگ اپنی عزیز خواتین اور لڑکیوں کو گلاب کے پھُول پیش کرتے تھے اور اس کے جواب میں خواتین کتابیں پیش کرتی تھیں۔اس دوران جگہ جگہ مشہورناول ڈان کیہوٹی کے حصے ،شیکسپئر کے ڈرامے اوردوسرے مصنفین کی کتابوں کے ڈرامے پڑھے جاتے تھے۔ڈان کیہوٹی کے حصے عرصہ 1616ءسے ہی ملتا ہے او ر یہ سلسلہ ڈان کیہوٹی کے مصنف میگوئیل سروانیس کے انتقال سے ہی شروع ہوا۔

اسی سال اسی تاریخ کو شیکسپئر اور بیروکے ناول نگار او رشاعر گاسلاسوڈالا ویگا کا بھی انتقال ہوا اور اس میں کچھ اور ادیبوں کے یوم پیدائش اور انتقال کو بھی شامل کر لیا گیا ۔جس میں “لولیتا” کے مصنف نویو کوف بھی شامل ہیں۔شیکسپئر کے ڈرامے اور دوسرے مصنفین کے ڈرامے سنائے جاتے تھے اور رفتہ رفتہ یہ روایت دوسرے ممالک میں پھیلتی گئی۔

اس میں ایک اضافہ کیا گیاکہ رواں صد ی کے آغاز سے کسی ایک شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ابتداءمیں میڈرڈ تھااورپھر بالترتیب سکندریہ،نئی دہلی،مونٹر یال،ٹورن،بگوٹہ،ایمسٹرڈم اور بیروت دارلحکومت قرار دیئے گئے۔

برطانیہ میں اس دن کے لیے مارچ کی پہلی جمعرات کا انتخاب کیا گیا اور اسے سکولوں کے بچوں میں کتابیں خریدنے کی عاد ت کو فروغ دیا گیا۔ایک دور تھاجب اندلس اور بخارا،علم وادب کی تہذیب کے مرکز تھے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں عظیم سائنسدان پیدا کیے اور دُنیا پر حکومت کی لیکن جب ہم نے کتاب سے رُخ موڑا اور ہماری کتابوں سے یورپ نے ترجمے کروا کر علم حاصل کیا تو ہم پستی میں چلے گئے اور اب ہم یورپ کے تعلیمی غلام ہیں ۔

ہر چھپنے والی اچھی کتُب سائنسی اور فنی علوم یورپ اور امریکہ سے ہی پرنٹ ہوتی ہے اور ہم خریدنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔شاید اسی موقع کے لیے حکیم الامت علا مہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا۔مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آباءکی جو دیکھیں اِن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا۔کتاب کا تعلق انسان سے کافی پُرانا ہے کتاب نہ صرف انسان کی بہترین دوست ہے بلکہ یہ انسان کے علم وہنر اور ذہنی استعداد میں بھی بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔انسانی زندگی کتاب کے بغیر ادھوری ہے کیونکہ کتاب اسی وقت چھپ گئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ سے بذریعہ وحی فرمایا تھا اَقراء بسم ربک الذی خلق پڑھ اللہ کے نام سے اور اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے تمام علوم کو اس میں سمو دیا ۔اور تمام دُنیاوی کتابیں اور علوم اس قرآن مجید کا جزو ہیںاور یہی وجہ ہے کہ انسان کی زندگی میں اس کتاب کی وجہ سے مذہبی،معاشرتی، اخلاقی انقلاب برپا ہوا۔

یہ وہ کتاب ہے جو دُنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اورچھاپی جاتی ہے۔سب سے بڑی بات کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور میں یہاں لائبریرین کو بھی خوش نصیب ہی کہوں گا کہ لائبریرین بھی ااس کتاب کا بھی محافظ ہے۔کتاب کا عالمی دن منانے کا مقصد معاشرہ میں اس کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔پاکستان میں اس دن پر نہ صرف معلوماتی سیمنار منعقد کروانے کی اشد ضرورت ہے بلکہ اسے حکومتی سطح اور نجی سطح پر عوام میں کتاب پڑھنے کے شعور کو بھی بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے اندر ایک تو شرح خواندگی کم ہے اور دوسرے کتاب کے مطالعہ کو انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا کی وجہ سے بھی کافی نقصان اُٹھانا پڑاہے۔لیکن اس کے باوجود لائبریری میں کتاب پڑھنے والوں کی تعداد کم نہ ہوئی ۔قائداعظم لائبریری پاکستان کے دل لاہور میں واقع ہے جسے کتابوں کا وائیٹ ہاوس بھی کہا جاتا ہے ۔اپنے خوبصورت ماحول اور بہترین خدمات کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اور اس میں کتاب دوست اتنے لوگ آتے ہیں کہ اتنی بڑی عمارت ہونے کے باوجود قارئین کو بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔قائداعظم لائبریری کی ایک خاصیت ہے کہ یہ ایک ریسرچ اینڈ ریفرنس لائبریری ہونے کے ساتھ ساتھ پبلک لائبریری ہونے کا درجہ بھی رکھتی ہے اپنی خوبصورت بلڈنگ کے ساتھ ایک خوبصورت پار ک باغ ِ جناح میں واقع ہے جہاں ہر وقت پھُولوں کی خوشبو کے ساتھ کتابوں کی خوشبو کے ساتھ بھی دمکتی رہتی ہے۔پاکستان کی واحد یہ لائبریری ہے جس میں سی۔ایس۔ایس اور پی ۔سی ۔ایس کی کتابیں ہر وقت ملتی ہے کیونکہ اس لائبریری سے کتابیں ایشو نہیں ہوتیں۔۔حکومت پاکستان کو خاص طور پر کتاب کی انڈسٹری کو مراعات دینے کی اشد ضرورت ہے۔

کاغذ کو سستا کرنے اور پبلشرز اور مصنف کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور ہندوستان ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے لیکن ہندوستان میں کتاب کی صنعت کو خاص اہمیت دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ وہاں دُنیا کے بڑے پبلشرز کے سب آفسز ہیں اور ہندوستان کے پبلشرز نے اُن سے کتاب کے پرنٹ کرنے حقوق لیے ہوئے ہیں اور وہاں کتاب پرنٹ ہوتی اس سے ہندوستان کے پڑھنے والوں کو بھی کتاب آسانی سے کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے بلکہ وہ اس سے باہر کے خاص کر ایشیائی ممالک سے اچھا خاصا زرمبادلہ بھی کماتے ہیں۔یہ کام پاکستان میں بھی کیا جا سکتا ہے اس میں پاکستان نیشنل بُک فاونڈیشن یہ کام کرسکتی ہے اور ایک دور میں کچھ کام ہوا بھی ہے لیکن اُسکا تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہندوستان میں پبلک لائبریریز سسٹم بھی موجود ہے یعنی انڈیا نے 1948ءمیں پبلک لائبریری ایکٹ پاس کر لیا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔لیکن پاکستان ابھی تک ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ایک سروے کے مطابق صرف پنجاب کے اندر تقریباََ 300 سے زیادہ پبلک لائبریریز موجود ہیں لیکن وہ کسی ایک باڈی کے زیر سایہ کام نہیں کر رہی ہیں ۔کچھ لائبریریز ڈائریکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز پنجاب کے زیر سایہ کام کر رہی ہیں اور کچھ لائبریریز اٹانومس باڈی کے تحت اور کچھ پنجاب سپورٹس بورڈ کے زیرسایہ اور کچھ میونسپل کارپوریشن کے زیر سایہ کام کررہی ہیں۔حالانکہ پنجاب میں ارکائیوز اینڈ لائبریریز ڈیپارٹمنٹ موجود ہے تو اس طرح پبلک لائبریریز کو الگ الگ باڈیز کے زیر سایہ کام کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

ان سب لائبریریز کو ایک صوبائی لیول کی باڈی کے زیر سائیہ ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ پنجاب کے اندر پنجاب لائبریری فاونڈیشن کی موجودگی بھی کتابوں کی کمی کو دوُر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اگرپنجاب لائبریری فاونڈیشن پبلشرز ،بک سیلرز اورمصنفین کی مالی معاونت آسان قرضہ جات کی صورت میں کریں تو پاکستانی معاشرہ بھی کتاب دوست بن سکتاہے۔پاکستانی معاشرہ کو کتاب دوست بنانے میں معاشر ہ کے ہر فردکواپنا کلیدی کردار ادا کرنا پڑے گا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرپاکستانی معاشرہ کوکتاب دوست کیسے بنایا جائے اس کے لیے چند تجاویز ملاحظہ فرمائیں۔معاشرہ کے اندر خاص طور پر ہماری قوم کے معمار میری مُراد اَساتذہ کرا م ہیں۔اگر سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباءو طالبات کونصابی کُتب کے ساتھ ساتھ کم از کم ہفتہ میں دو دفعہ کوئی ایسی آسائنمنٹ دیں جس کے لیے طلباءکو ہر حال میں لائبریری کارُخ کرنا پڑے اس سے ان کے نالج میں بھی اضافہ ہوگا اور لائبریری اورکتاب سے

جُڑے رہنے کا بھی موقع ملے گا۔اس کے علاوہ کتاب دوستی اور کتاب دوست معاشرہ بنانے میں خاص کر پبلک لائبریری کے لائبریرین کابہت بڑ ا کردار ہے۔پبلک لائبریری ایک ایسی لائبریری ہوتی ہے جس میں ہرمکتبہ فکر اور ہر عمر کے قارئیں آتے ہیں اور پبلک لائبریری کا لائبریرین اُ ن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتا ہے۔لائبریرین اگر سکول کے بچوں کومختلف ادوار میں لائبریری میں مدعو کرے اور اُنکی دلچسپی کے مضامین اور معلوماتی ویڈیو دیکھائے اس طرح بچے سکول کے اوقات کار کے بعد بھی اپنے والدین کے ساتھ لائبریری میں آئیں گے اور اسطرح بچے اپنی سکول کی زندگی سے ہی کتاب سے دوستی کرنے کے عادی بن جائیں گے۔اور ایک کام جوکہ گورنمنٹ آف پاکستان اور تمام صوبائی گورنمنٹ کے کرنے کا ہے کہ لائبریری کے مضمون کو نرسری سے سلیبس(نصاب) کا حصہ ہونا چاہیے اس سے بھی بچوں کو اپنے ادارے کی لائبریری اور باقی دوسرے اداروں کی مختلف لائبریریز میں جانے کا موقع ملے گا۔اور بچوں کے اندر لائبریری اور کتاب دوستی کا شعور پیدا ہوگا۔

یہاں تیسرا کردار گورنمنٹ آف پنجاب کا بھی ہے کہ فوری طور پر گورنمنٹ آف پنجاب کے سکول،کالج میں لائبریرین کی خالی آسامیاں بذریعہ پبلک سروس کمیشن بھرتی کی جائیں تاکہ سکول اور کالج کی لائبریریز آباد ہوں کیونکہ یہ آخری دفعہ 1997ءمیں اس کی بھرتی ہوئی تھی ماضی قریب میں تمام مضامین کے ٹیچرز پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے گئے لیکن بدقسمتی سے لائبریرین کی آسامی کوپبلک سروس کمیشن کے ذریعے ابھی تک بھرتی نہیں کیا گیا۔جس سکول ،کالج کی لائبریریز میں پروفیشنل لائبریرین ہی نہیں ہوگا تو وہاں ہم بچوں کو کتاب دوست کیسے بنا سکتے ہیں۔

اُمید ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر اپنے منشور کے مطابق ضرور عمل کرے گی۔اور آخر میں آج کل میڈیا کا دور دورہ ہے اور اس سلسلے میں میڈیا انتہائی اہم کردار ادا کرسکتا ہے میڈیا میں جہاں رات دن مختلف معلومات خبروں کو صورت میں ڈرامہ کی صورت میں یا دستاویزی فلم کی صورت میں دیکھائی جارہی ہیں اگر ایک پروگرام خاص کر بچوں کے حوالے سے کتاب دوستی اور لائبریری کے بارے میں بھی شروع ہونا چاہیے اور اس سے بچوں کے کوئز مقابلے مختلف ڈے پر کروانے چاہیے اورانعامات کی صورت میں اُنکی حوصلہ افزائی کی جائے اس سے بھی معاشرہ میں کتا ب دوستی میں انقلاب برپا ہوسکتاہے۔

بلا شُعبہ پاکستان کے اندر لائبریری پروفیشنل اپنے اپنے انداز میں کتاب کے عالمی دن کے موقع پر مختلف تقاریب کا اہتمام کرتے رہے ہیں لیکن اس سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم سب اور پوری دُنیا ایک ازمائش سے گزر رہی ہے اور ہم سب کرونا وائرس کی زد میں ہیں لیکن مایوسی گناہ ہے اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے ہمیشہ اپنے بندوں پر رحم اور کرم کرتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع دیا ہے اور ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن مجید کو پڑھیں اور اس سے رہنمائی حاصل کریں یقین جانیے بہت ہی خوبصورت کتاب ہے ۔

آپ پڑھنا شروع کردیں اوریہ وقت ہے کہ ہمیں ایک دوسروں کی غلطیاں معاف کردیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میر ے بندوں کو معاف کرو میں تمھارے گُناہ معاف کردوں گا۔ہمیںیہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے ان حالات میں اپنے سے ناراض رشتہ داروں و دوستوں کو کم از کم ایک فون کال کرکے ہی معازرت کر لینی چاہیے اور اگر کسی نے ہم سے زیادتی اور تکلیف دی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضاءکی خاطر معاف کر دینا چاہیے ۔

اورہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں اپنے آپ کو اپنی فیملی کو محفوظ رکھنا چاہیے ۔ اور ہمیں یہاں لڑنے کی فضاءکو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے ہان سربسجود ہو جانا چاہیے ہم اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے سامنے اس قابل کہاں کہ لڑ سکیں بلکہ عاجزی و انکساری کا دامن تھامے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی چاہیے۔ انشاءاللہ ہم سب جلد ایک دوسرے سے ملیں گے اور انشاءاللہ ایک ایسا سورج طلوع ہونے والا ہے جو ہمارے لیے اور پوری عالم انسانیت کے لیے پُرسکون زندگی کی نوید لائے گا اور یہ مشکلات اور پریشانی کے بادل چھٹ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں