16

جب فتح دیکھتے ہیں تو طالبان کسی کی بات کیوں سنتے ہیں وزیر اعظم

جب فتح دیکھتے ہیں تو طالبان کسی کی بات کیوں سنتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب طالبان فتح کو دیکھتے ہیں تو وہ کسی کی بات کیوں سنیں گے ، خدشہ ہے کہ افغانستان میں بدامنی مہاجرین کی نئی لہر کا باعث بنے گی ، پاکستان مزید افغان مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا ، مسئلہ کشمیر یہ ہے پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے بڑا مسئلہ۔

مسئلہ کشمیر کے حل سے پورے خطے میں رابطے کھلیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وسطی اور جنوبی ایشین قائدین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہیں ، افغان جنگ کے دوران 15 سال میں 70،000 پاکستانی مارے گئے ، خطے میں امن اور سلامتی سب سے اہم ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی ہیں جو افغان امن عمل میں صرف افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان روز اول سے ہی کہہ چکا ہے کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ ہم نے افغان امن عمل کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں۔ آج ہم نے افغان صدر اشرف غنی سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک نئی لہر آئے گی ، افغانستان میں امن تمام ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے ، امریکہ افغانستان میں فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ممکن نہیں تھا ، افغانستان میں عدم استحکام کے لئے پاکستان پر الزام لگانا غیر منصفانہ ہے ، ہمارے پاس پچھلے 15 سالوں میں پاکستان نے 70،000 افراد کی قربانی دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں