26

مودی حکومت نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگا دیا

بی جے پی کی مودی حکومت نے اپنی ہی ایئر فورس کو 45 ہزار 696 کروڑ بھارتی روپے کا ٹیکہ لگا دیا۔
ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 3 فروری کو ییلہنکا ایئر بیس پر منعقدہ ایرو انڈیا -2021 شو کے افتتاح کے موقع پر ہندوستانی فضائیہ کو تب حیرت اور مایوسی کا شکار کر دیا جب ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو 6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازا اور تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا۔
یاد رہے کہ ہندوستانی فضائیہ پہلے دن ان جہازوں کو ان کی تکنیکی مسائل کہ وجہ سے مسترد کر چکی تھی۔
2016 میں بھارتی فضائیہ میں شامل لائٹ کومبیٹ تیجا طیارے جنگی مشقوں میں ناکام ثابت ہوئے۔ جس کے بعد بھارتی ایئرفورس کے اعلیٰ حکام نے تحقیقات کا حکم دیا۔ راجستھان کے شہر پوکھران میں بھارتی فوج کی جنگی مشقیں ’’آئرن فسٹ 2016ئ‘‘ کے نام سے ہوئیں تھیں جن میں بھارت نے اپنے جدید لڑاکا ’’تیجا‘‘ طیاروں کو بھی آزمایا مگر طیاروں سے داغے گئے میزائل اور بم اپنے ہدف کو ٹارگٹ کرنے میں ناکام رہے تھے
تیجا جہاز ہندوستانی MIG-21 جہازوں کے نعم البدال کے طور پر متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ 1970 ء کے بعد سے MIG-21کے حا دثات میں 170 سے زیادہ پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
لیکن ہندوستان کی بدترین بدقسمتی کہ تیجا جہاز ایک ناکام ترین پراجیکٹ رہا
بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری اپنی غیر معیاری پیداوار اور دہایوں پر محیط اپنی مسلسل نا کامیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بد نام ہے دنیا میں خود کو چین کا متبادل اور مقابل متعارف کروانے والا ملک 26 سال میں اپنے تیار کردہ جہاز کی کینوپی کا فالٹ تک درست نہ کر پایا۔
تیجا ہندوستان کے ایچ اے ایل کے ذریعہ لڑاکا طیارے بنانے کا پہلا ناکام منصوبہ نہیں ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے لئے مقامی طور پر لڑاکا جیٹ طیارے تیار کرنے کا سب سے پہلا ناکام منصوبہ HF-24 ماروٹ پروجیکٹ تھا ،
جو 1955 میں HAL کے ذریعہ ملٹی رول ایئرکرافٹ ڈیزائن کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا جس کی بنیاد اسی طرح کے فلسفہ کی بنیاد پر موجودہ ایل سی اے تیجا بنایا گیاہے۔ منصوبے میں ، متعدد خامیاں سامنے آئی اور اسی طرح 25 سال، ڈیزائن خامیوں ، کنوپی مسائل اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوششوں میں گزر گئے ، تب ہندوستانی فضائیہ نے لڑاکا طیارے بنانے والے ایچ اے ایل کو آرڈر دینے سے انکار کردیا
مگ-21 کے فرسودہ بیڑے کی جگہ تیجا جہازوں کو متعارف کرایا گیا لیکن اب تک 60 فیصد تیجا گراؤنڈ ہو چکے ہیں۔ مودی حکومت اور بھارتی ائیر فورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا اس پروجیکٹ کی ناکامی کا عکاس ہے۔ جبکہ 3 فروری کو HAL ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو ہی پھر تیجا جہازوں کے6.25 بلین ڈالر کے ٹھیکے سے نوازنا بھارتی ائیر فورس کے لیے جھٹکا ثابت ہوا

اس کے مقابلے میں پاکستان کے شاہینوں نے پاکستان میں بنائے جانے والے JF-17 تھنڈر سے بھارتی سور ماؤں کا خواب چکنا چور کیا ایک SU-30 اور MIG-21کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کی یہ کامیابی پاکستان ایوی ایشن انڈسٹری کی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیت کا ثبوت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں